دریائے سندھ پر پانی کی چوری اور پانی کی تقسیم میں ناانصافی کے خلاف سندھ بھر کی طرح پریالو میں بھی شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں کوسا پل سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو پریس کلب پریالو کے سامنے دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔ سخت گرمی، تیز دھوپ اور جھلستے موسم کے باوجود پریالو اور گرد و نواح کے باشعور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے سندھ کے پانی کے حق میں آواز بلند کی۔ احتجاجی ریلی اور دھرنے میں سیاسی، سماجی، ادبی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام شہریوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر “پانی پر سندھ کا حق تسلیم کرو”، “دریائے سندھ پر قبضے بند کرو” اور “پانی کی تقسیم میں انصاف کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر پانی کے ناجائز کٹوتیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے سندھ کی زرعی معیشت، ماحول اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دریائے سندھ پر جاری ناجائز تجاوزات، بندوں کی تعمیر اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور آئین و انصاف کے مطابق سندھ کو اس کا جائز پانی فراہم کیا جائے۔