نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے دوران گرلز اسکولوں میں امتحانی عمل کے دوران تصویریں کھینچنے کے عمل پر والدین اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں پیش آئے ایک واقعے میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، میں ایک امتحانی مرکز کے دورے پر آئے ہوئے افسر نے امتحان دینے والی طالبات کی تصاویر سوشل میڈیا کے لیے بنائیں، جس پر والدین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے عمل سے طالبات کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اور ان کے ذہنی سکون پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امتحان ایک سنجیدہ عمل ہے جس کے لیے طالبات کو پُرسکون ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیاں قوم کا سرمایہ ہیں، جن کی عزت اور تحفظ کے لیے محکمہ تعلیم کو فوری طور پر واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں کہ امتحانی مراکز میں کسی بھی فرد، چاہے وہ افسر ہی کیوں نہ ہو، کو تصاویر لینے کی اجازت نہ ہو۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم اور ڈی جی اسکول ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کا فوری نوٹس لے کر طالبات کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔
