اسلام آباد (15 جولائی 2026): پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز کا غیر معمولی طور پر تیزی سے پگھلنا یا آگے بڑھنا دونوں ہی صورتیں ملک کے لیے سنگین ماحولیاتی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز میں تبدیلی کے باعث خطرناک برفانی جھیلیں وجود میں آتی ہیں، جن کے ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں، جو قریبی آبادیوں، دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ڈاکٹر مطیع اللہ حق کے مطابق گلیشیئرز میں حالیہ تبدیلیاں نہ صرف سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں ملک کو پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں شِشپر گلیشیئر کے آگے بڑھنے سے پانی کا قدرتی راستہ بند ہوا، جس کے نتیجے میں ایک جھیل بنی جو بعد میں دو مرتبہ پھٹنے سے قراقرم ہائی وے سمیت نشیبی علاقوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دریاؤں میں بہنے والے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر گلیشیئرز مسلسل سکڑتے رہے تو ابتدائی طور پر برف کے زیادہ پگھلنے سے سیلاب کا خطرہ بڑھے گا، لیکن طویل مدت میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا، جس سے ملک قیمتی آبی وسائل سے محروم ہو سکتا ہے۔سپارکو کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت، فضائی آلودگی، بلیک کاربن اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شجرکاری کو فروغ دیا جائے، جنگلات کی کٹائی روکی جائے اور ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
